ذی روح

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جان دار۔ "دھوپ میں گیس کی دیواریں سی چل رہی تھیں، کسی ذی روح کا نظر آنا تو درکنار دُور کی آواز بھی کان نہ پڑی۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١١٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے دخیل کلمہ 'ذی' کے ساتھ عربی ہی سے مشتق اسم 'روح' ملانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے ١٧٨٢ء کو "دیوانِ محبت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جان دار۔ "دھوپ میں گیس کی دیواریں سی چل رہی تھیں، کسی ذی روح کا نظر آنا تو درکنار دُور کی آواز بھی کان نہ پڑی۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١١٠ )